کتنے خوش نصیب ہیں ماؤں والے
کہ اُن کے آنگن چھاؤں والے
۔۔۔
ان کے قدموں کو ٹھیس لگے گی نہیں
ان کے پیچھے ہیں ہاتھ دعاؤں والے
۔۔۔
ماں کے آنگن کا موسم بہار ہمیشہ
خواہ آئیں تیز جھونکے خزاؤں والے
۔۔۔
اس کی ممتا بالائے ادراک و فہم ہے
اس کے جذبے معبودوں خداؤں والے
۔۔۔
جو ماں کا مطیع ہے بڑا خوش بخت ہے
ہوں گے اس کے بھی بچے وفاؤں والے
۔۔۔
’’مانواں ٹھنڈیاں ٹھنڈیاں چھاواں‘‘
سچ کہتے ہیں سارے میرے گاؤں والے
۔۔۔
ذرا لفظ ’’ماں‘‘ آہستگی سے جو بولو!
ٹھہر جائیں لمحے رضاؤں والے

(اسٹیفن رضا)