میرے آنگن میں جو رنگوں کا باغیچہ ہے
یہ میری ماں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے
۔۔۔
جو کچھ میں ہوں، اور جو کچھ ہوں گا کبھی
ماں کی بدولت ہوں، مرا یہ عقیدہ ہے
۔۔۔
مجھ سے پہلے بھانپ لیتی ہے تیور میرے
کہ مرا لختِ جگر شوخ ہے، یا سنجیدہ ہے،
۔۔۔
گود اس کی ہے زمانے کی بہتریں جائے سکوں
ہاتھ کے لمس میں شفا ہے، وہ مسیحا ہے،
۔۔۔
حیف، صد حیف! جس کی ماں ساتھ نہیں
وہ بے بار و برگ ہے، شاخِ بریدہ ہے،
۔۔۔
ماں کے پیروں کو دبایا تو یہ احساس ہوا
خدمتِ ماں کا یہی عمدہ، اک طریقہ ہے،
۔۔۔
میری پلکوں کی جھپک اور دھڑکنِ دل میں
ماں کی صورت اور ’’ماں، ’’ماں‘‘ کا وظیفہ ہے،
۔۔۔
ذکرِ ماں آیا تو سر جھک گیا احتراماً
ایسی ہستی کا نام لینے کا یہی سلیقہ ہے،
۔۔۔
جو بھی لکھ لے، جتنا بھی لکھ لے، رضاؔ ماں کے لئے
تہی دامن اور ادھورا ترا ہر قصیدہ ہے
(اسٹیفن رضا)